نئی دہلی،20؍جون (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )چین نے پیر کو کہا ہے کہ اسی ہفتے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونے والے 48رکنی نیوکلیئر سپلائر گروپ (این ایس جی)کے اجلاس کے ایجنڈے میں ہندوستان کی رکنیت کا مسئلہ نہیں ہے۔اس بیان سے صاف اشارہ مل رہاہے کہ ہندوستان کو این ایس جی میں شامل کئے جانے کو لے کر گروپ کے ممبران کے درمیان اتفاق رائے نہیں بن پایا ہے۔چین کا یہ بیان حیران کرنے والا ہے، کیونکہ ہندوستان کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اتوار کو ہی کہا تھا کہ چین اس گروپ میں ہندوستان کی رکنیت کے خلاف نہیں ہے، اور یہ صرف کاروائی کا مسئلہ ہے۔چینی وزارت خارجہ نے پیر کو کہا کہ ہندوستان کی رکنیت کو لے کر بحث ہندوستان کے خارجہ سکریٹری ایس جے شنکرکے گزشتہ ہفتے ہوئے چین کے دورے کے دوران بھی جاری رہی تھی، لیکن چین نے بتا دیا ہے کہ اس معاملے پر مزید بحث کئے جانے کی ضرورت ہے۔ایس جے شنکر نے وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کرکے ہندوستان کو این ایس جی کی رکنیت دئیے جانے کی وکالت کی تھی، لیکن اب صاف ہے کہ چین اس سے متفق نہیں ہے ۔قابل ذکرہے کہ 48ممالک کا گروپ این ایس جی جوہری ٹیکنالوجی کو کنٹرول کرتا ہے، جس کی ہندوستان کو اس کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کی وجہ سے ضرورت ہے۔اس گروپ کا مقصد جوہری ہتھیاروں کی توسیع کو روکنا ہے، اور اس کا قیام ہندوستان کی طرف سے 1974میں کئے گئے پہلے جوہری ٹیسٹ کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ہوا چن ینگ نے کہا کہ گروپ کے ممبران کے درمیان نہ صرف ہندوستان کی رکنیت کو لے کر، بلکہ تمام غیر این پی ٹی ارکان کو شامل کئے جانے کو لے کر الگ الگ رائے ہے ۔ترجمان نے کہا کہ این پی ٹی ہی جوہری عدم توسیع کی بنیاد ہے، اور چین کا ماننا ہے کہ اس مسئلے پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ رویہ کسی خاص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ہوا نے یہ بھی کہا کہ نئے ارکان کو شامل کئے جانے کا مسئلہ کبھی بھی این ایس جی کے سالانہ اجلاس کے ایجنڈے میں نہیں ہے، اور اس بار بھی یہ ایجنڈے میں نہیں۔انہوں نے کہاکہ غیر این پی ٹی ارکان کو شامل کیا جانا کبھی این پی ٹی کے اجلاسوں کے ایجنڈے میں نہیں رہا ہے۔اس سال سیول میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔